تیل سستا، کمپنیوں پر بھاری ٹیرف، اور ہتھیاروں کی نئی عالمی ڈیل
غیر ملکی کمپنیاں اگر امریکہ میں کاروبار نہ کریں تو 50 فیصد تک ٹیرف دینا ہوگا، یورپی اتحادی ہتھیاروں کی مکمل قیمت چکائیں گے ، واشنگٹن میں اے آئی سمٹ میں سخت پیغامات۔
واشنگٹن میں منعقدہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاشی پالیسیوں، توانائی کے معاہدوں اور عالمی سفارت کاری سے متعلق کئی اہم اعلانات کیے۔
ان کے مطابق امریکہ نہ صرف عالمی تیل کی قیمتیں مزید کم کرنا چاہتا ہے، بلکہ اُن کمپنیوں پر بھاری ٹیرف عائد کرے گا جو امریکہ میں کاروبار قائم کرنے سے گریزاں ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جن غیر ملکی کمپنیوں نے امریکہ میں سرمایہ کاری سے انکار کیا، اُن پر 15 سے 50 فیصد تک ٹیرف لاگو ہو گا۔
جبکہ امریکی سرزمین پر کاروبار کرنے والوں کو ریلیف دیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ امریکی مارکیٹ اب غیر مشروط طور پر سب کے لیے کھلی نہیں رہے گی۔
صدر ٹرمپ نے ایک اور بڑی پیش رفت کا انکشاف کیا کہ امریکہ نے یورپی اتحادیوں کے ساتھ ایک نئی ہتھیاروں کی ڈیل طے کی ہے، جس کے تحت یہ ممالک ہتھیاروں کی مکمل قیمت ادا کریں گے۔
اور یہ ہتھیار بعد ازاں یوکرین کو منتقل کیے جائیں گے۔ اس اقدام کو نیٹو اور امریکہ کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق ایشیا کے اہم ممالک جیسے جاپان، فلپائن اور انڈونیشیا کے ساتھ توانائی کے شعبے میں بڑے معاہدے زیرِ غور ہیں۔ انہوں نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کی تیاری کی تصدیق بھی کی۔
مصنوعی ذہانت کے میدان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین کے مقابلے میں امریکہ اس عالمی دوڑ میں سبقت حاصل کر چکا ہے، اور یہ میدان آخرکار واشنگٹن ہی جیتے گا۔
سمٹ کے دوران صدر ٹرمپ نے تین ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط بھی کیے، جن کا مقصد امریکی دفاعی اور تجارتی پالیسیوں میں اہم اصلاحات متعارف کرانا ہے۔
ٹرمپ کا حالیہ خطاب نہ صرف عالمی تجارت پر اثر انداز ہونے جا رہا ہے، بلکہ توانائی، ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبے میں امریکہ کی پوزیشن کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے۔
ان فیصلوں کے اثرات جلد عالمی سطح پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔




