عسکری سطح پر جنگ بندی برقرار ہے لیکن بھارتی سیاسی قیادت کو شکست ہضم نہیں ہو رہی، نائب وزیراعظم
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت دنیا میں تنہائی کا شکار ہے۔ عسکری سطح پر جنگ بندی برقرار ہے،بھارت کی سیاسی قیادت کو شکست ہضم نہیں ہو رہی۔ جنگ شروع بھی بھارت نے کی تھی، ختم بھی انہی کی درخواست پر ہوئی، بھارت پاکستان کا پانی روک سکتا ہے ہی نہ اس کا رخ موڑ سکتا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے پر بھارت کیلئے فضائی حدود بند کی۔
اسحاق ڈار نے ملائیشیا کے دارالحکومت میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سخت اقتصادی حالات میں کامیابی سے ٹیک آف کیا ہے اور ہمارا اگلا ہدف دنیا کی بڑی معیشتوں کے گروپ "جی 20” میں شمولیت ہے۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے غیر سنجیدہ اور اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نہ تو پاکستان کا پانی روک سکتا ہے اور نہ ہی دریاؤں کا قدرتی بہاؤ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کو مؤثر جواب دینے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پاکستانی فضائیہ نے دشمن کے 6 جنگی طیارے تباہ کیے، جن میں 4 جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے۔
بھارت نے جان بوجھ کر اپنے 2 میزائل سکھ آبادی میں گرا کر اپنی ہی قوم کو نقصان پہنچایا، تاہم بین الاقوامی برادری نے بھارتی مؤقف کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر صبح سوا 8 بجے امریکی وزیر خارجہ نے فون پر اطلاع دی کہ بھارت سیزفائر چاہتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کی افواج اب اپنی دفاعی پوزیشنز تبدیل کر چکی ہیں۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام ملک کے دفاع کی مضبوط ڈھال ہے۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کابل میں چائے پینے اور دہشت گردوں کے لیے بارڈر کھولنے جیسی پالیسیوں نے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔




