ماہرینِ قلب کا تاریخی کارنامہ مردہ دل3ماہ کےبچے میں دھڑکنے لگا
امریکا کی معروف ڈیوک یونیورسٹی کے ماہرینِ قلب نے ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے ایسا دل دوبارہ زندہ کیا جسے طبی طور پر مردہ قرار دیا جا چکا تھا، اور پھر اسے کامیابی سے تین ماہ کے شیر خوار بچے میں ٹرانسپلانٹ کر دیا۔
یہ پیش رفت کم عمر مریضوں کے لیے ایک بڑی امید بن کر سامنے آئی ہے، جو اکثر موزوں عطیہ دہندہ (ڈونر) نہ ملنے کے باعث زندگی کی جنگ ہار جاتے ہیں۔
یہ معجزہ نما کامیابی ایک جدید تکنیک ” آن ٹیبل ری اینیمیشن” (On-table Reanimation) اس عمل میں ایک مخصوص مشین کی مدد سے دل میں دوبارہ خون کی روانی بحال کی جاتی ہے تاکہ اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، اس مشین کی بدولت دل دوبارہ دھڑکنے لگا اور مکمل بحالی کے بعد بچے کے جسم میں منتقل کر دیا گیا۔
سرجری کے چھ ماہ بعد ہونے والے میڈیکل معائنے سے ثابت ہوا کہ بچے کا دل مکمل طور پر نارمل کام کر رہا ہے اور کسی پیچیدگی کا کوئی نشان نہیں۔
اس کامیابی کے مرکزی محقق، ڈاکٹر ایرون ولیمز نے اسے دل کی پیوندکاری کے شعبے میں ” گیم چینجر” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف مؤثر بلکہ کم لاگت طریقہ ہے، جو دنیا بھر میں ہزاروں مریضوں کے لیے نئی زندگی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہ طریقہ وسیع پیمانے پر اختیار کیا جائے تو عطیہ شدہ دلوں کی دستیابی میں 30 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔




