صحت و سائنس

وزن کم کرنے والی دوا یا دماغ کی محافظ؟ حیرت انگیز طبی انکشاف

 

سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے تجویز کی جانے والی "جی ایل پی-1 ” ریسیپٹر ایگونسٹ ادویات نہ صرف وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ "ڈیمینشیا جیسے دماغی مرض سے بھی بہتر تحفظ”فراہم کرتی ہیں۔

میٹافارمن کو طویل عرصے سے ذیابیطس کا بنیادی علاج سمجھا جاتا رہا ہے، مگر حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ”جی ایل پی-1 "ادویات ڈیمینشیا کے خطرات کو مزید مؤثر انداز میں کم کرتی ہیں”۔

ماضی میں شائع تحقیق سے ظاہر ہوا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار افراد میں”ڈیمینشیا میں مبتلا ہونے کا امکان 70 فیصد زیادہ” ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان ان دو مقبول ادویات کا تقابلی مطالعہ کر رہے تھے۔

حالیہ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ "جی ایل پی-1 کا استعمال کرنے والے مریضوں میں ڈیمینشیا کے امکانات میں قابلِ ذکر کمی” دیکھی گئی، جب کہ میٹافارمن کے نتائج نسبتاً کم مؤثر رہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ "جی ایل پی-1 "ادویات دماغ کی سوجن کم کرنے، نیورونز کی حفاظت کرنے، اور "خون کی روانی بہتر بنانے” میں کردار ادا کر سکتی ہیں، جو ڈیمینشیا سے بچاؤ کے لیے اہم عوامل ہیں۔

البتہ، ماہرین نے خبردار بھی کیا ہے کہ ان انجیکشنز کے کچھ ممکنہ مضر اثرات جیسے متلی، قبض یا کمزوری کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر بزرگ مریضوں میں۔

یہ حیران کن انکشاف مستقبل کی دوا سازی اور دماغی بیماریوں کے علاج میں ایک نئی سمت فراہم کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے مریضوں کے لیے جو ذیابیطس اور وزن کے مسائل کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کے خطرات سے بھی دوچار ہوتے ہیں۔

 

install suchtv android app on google app store

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button