چیونگ گم کھانا صحت پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟ جانیے
دنیا بھر میں، خاص طور پر ڈیجیٹل دور میں، مسلسل اسکرین کے سامنے رہنا، نیند کی کمی، اور ذہنی دباؤ ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ’برین فوگ‘، تھکن، اور کم توانائی اب صرف اصطلاحات نہیں بلکہ بہت سوں کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔
اس کا نتیجہ؟ ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی انڈسٹری جو ’دماغی بہتری‘ کے لیے سپلیمنٹس، چیونگ گمز اور گمیز کی شکل میں مختلف مصنوعات پیش کر رہی ہے۔
اگر آپ نے سوشل میڈیا پر اسمارٹ، دلکش پیکجنگ میں پیش کی جانے والی کسی گمی کو دیکھا ہے جو بہتر توجہ، ذہنی وضاحت اور توانائی کا وعدہ کرتی ہے، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔
ان میں سے ایک نمایاں پروڈکٹ، جسے بعض اوقات ’نیوروگم‘ یا ’نیوروگمی‘ کہا جاتا ہے۔
امریکہ کے مشہور پروگرام ’شارک ٹینک‘ پر بھی پیش کی جا چکی ہے، اور اب دنیا کے مختلف حصوں میں فروخت ہو رہی ہے۔
یہ گمیز اکثر یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ یہ کافی کا متبادل بن سکتی ہیں، اور ان میں کیفیین، بی وٹامنز، ایل تھیئنین، اور بعض اوقات جینسینگ جیسے اجزاء شامل ہوتے ہیں۔
لیکن کیا یہ واقعی کام کرتی ہیں؟ یا یہ محض ایک فیشن ہے؟ آئیے ڈاکٹروں سے جانتے ہیں، گمیز کس چیز سے بنی ہوتی ہیں؟
عموماً ان چیونگمز میں شامل ہوتے ہیں، توانائی اور توجہ کے لئے ’کیفین‘، ’ایل تھیئنین‘ کیفین کے اثرات کو متوازن کرنے کے لیے یا ایک سکون بخش جزو، جو سبز چائے میں بھی پایا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ دماغی اور اعصابی افعال کے لیے ’وٹامن بی 6‘ اور’وٹامن بی 12’، اور ’جینسینگ‘ ذہنی کارکردگی بڑھانے کے دعووں کے ساتھ۔
یہ پروڈکٹس اکثر شوگر فری، ویگن، اور مصنوعی میٹھے سے پاک ہوتی ہیں۔ لیکن کیا یہ مدد کر سکتی ہیں… اور وہ بھی صرف جب واقعی ضرورت ہو۔
ماہرینِ اعصابیات (نیورولوجسٹس) کا کہنا ہے کہ، ’یہ سپلیمنٹس صرف اُس وقت فائدہ مند ہو سکتے ہیں جب آپ کو مخصوص وٹامنز کی کمی ہو، خاص طور پر بی B12 کی۔ اگر آپ صحت مند ہیں اور متوازن خوراک لیتے ہیں تو ان سپلیمنٹس کی ضرورت نہیں۔‘
ڈاکٹر، نیورولوجسٹ کے مطابق کئی بار ہم خود ہی اپنی کمزوری یا ذہنی دھند کو ’برین فوگ‘ سمجھ لیتے ہیں۔
جب کہ اصل وجہ کچھ اور بھی ہو سکتی ہے، مثلا نیند کی کمی، پانی کی کمی، دباؤ، یا غیر متوازن غذا۔
کیفین اور ایل تھیئنین کا امتزاج قلیل مدتی توجہ اور سکون میں بہتری لا سکتا ہے، لیکن یہ ایک عارضی اثر ہے، جیسے ایک زوم کال یا فوری کام کے لیے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’کیا یہ محفوظ ہیں؟‘ اس کا جواب ہے ’جی ہاں، اگر اعتدال سے استعمال کی جائیں‘۔
تاہم، وٹامنز بی کی اگر آپ کی سطح پہلے ہی نارمل ہے تو اضافی وٹامنز فائدہ نہیں دیں گے، بلکہ حد سے زیادہ مقدار نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔ جیسے ہائیپر وٹامنوسس۔
جینسینگ کچھ افراد میں بلڈ پریشر یا دیگر دواؤں کے ساتھ تفاعل یا انٹر ایکشن کر سکتا ہے۔
چونکہ یہ چیونگمز میٹھے اور آسانی سے چبانے والی ہوتی ہیں، اس لیے زیادہ مقدار لینا آسان ہے، جو کہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اگر آپ کسی دوا پر ہیں، خاص طور پر ذہنی صحت، بلڈ پریشر یا ذیابیطس کے لیے، تو کوئی بھی سپلیمنٹ لینے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔
کیا یہ واقعی کافی کا متبادل بن سکتی ہے؟
کسی حد تک، شاید وقتی طور پر۔ لیکن یاد رکھیں، کافی یا نیند کی کمی کا حل کوئی گمی نہیں ہو سکتی۔
یہ سپلیمنٹس آپ کو عارضی توانائی دے سکتی ہیں، لیکن دماغی صحت کے لیے پائیدار نتائج کے لیے درج ذیل عوامل زیادہ اہم ہیں.
ماہرین کے مطابق دماغی صحت بہتر بنانے کے قدرتی طریقے:
باقاعدہ نیند:
7-8 گھنٹے کی نیند ذہن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے
صحت مند غذا:
سبزیاں، پھل، گری دار میوے، مچھلی، اور مکمل اناج استعمال کریں
ورزش:
دماغ میں خون کے بہاؤ کو بہتر بناتی ہے
پانی کا استعمال:
ہلکی ڈی ہائیڈریشن بھی توجہ کو متاثر کر سکتی ہے
ذہنی سرگرمیاں:
مطالعہ، لکھنا، شطرنج، سماجی رابطے — یہ سب دماغی فعالیت میں مدد کرتے ہیں
دباؤ کا نظم:
مراقبہ، گہرے سانس کی مشقیں، اور وقت پر آرام۔




