کیل مہاسوں کے علاج کے لیے ’ تھوک‘ استعمال کرتی ہوں، اداکارہ تمنا بھاٹیا کا انوکھا انکشاف

بھارتی اداکارہ تمنا بھاٹیہ نے ایک انوکھی بات کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ کیل مہاسوں کے علاج کے لیے صبح سویرے اپنی تھوک کا استعمال کرتی ہیں، کیونکہ ان کے مطابق یہ ایک قدرتی اور مؤثر طریقہ ہے جو ان کی جلد کو صاف رکھنے اور مہاسوں سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو کےدوران تمنا بھاٹیہ نے اپنے فینز کو غیر روایتی بیوٹی ٹپ دیتے ہوئے حیران کردیا۔
ایکنی کے علاج کیلئے اداکارہ کا بیان
دوران انٹرویو میزبان کی جانب سے جب اداکارہ تمنا بھاٹیہ سے جلد پر دانے نکلنا کا سوال کیا گیا تو انہوں نے بے تکلفانہ اندازمیں جوابا کہا ’ تھوک‘، تھوک لگائیں۔
اپنے جواب کی وضاحت کرتے ہوئے تمنا بھاٹیہ کا کہنا تھا کہ ’ دانوں کے علاج کیلئے آپ کا صبح کا تھوک ( برش سے بھی پہلے منہ میں آنے والا لعاب ) کام کرتا ہے اور یہ بات سائنس بھی تسلیم کرتی ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں لیکن یہ میرا ذاتی طور پر کیا گیا تجربہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس کے پیچھے کوئی سائنس ضرور ہے کیونکہ جب آپ صبح اٹھتے ہیں۔
تو آپ کاجسم رات بھر کے دوران منہ میں کافی اینٹی بیکٹیریل عناصر پیدا کرچکا ہوتا ہے۔
تمنا نے مزید کہا کہ آپ کا جسم بیکٹیریا کے خلاف راتوں رات دفاع کرتا ہے، نتیجتاً صبح سویرے ہماری آنکھوں میں لیس دار سیال موجود ہوتا ہے، ہماری ناک بھری ہوئی ہوتی ہے۔
حتیٰ کہ ہمارے منہ میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات موجود ہوتی ہیں، اگر آپ صبح کے وقت اس تھوک کو استعمال کرتے ہیں تو یہ فوری طور پر آپ کے پمپلوں کو خشک کر دے گا۔
اینٹی ایجنگ اسکن روٹین کیلئے اداکارہ کا مشورہ
دوسری جانب اداکارہ نے اپنی اینٹی ایجنگ اسکن روٹین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ25 سال کے بعد ہمیں اپنی روزمرہ کی روٹین میں اینٹی ایجنگ پراڈکٹس شامل کرنا چاہئیں۔
ہم چونکہ مسلسل کیمروں کے سامنے رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ میں نے 24 یا 25 کی عمر میں اچھی اسکن کیئر کاانتخاب کیا۔
اگر آپ بڑھاپے کے اثرات کو کم کرنا چاہتے ہیں تو جان لیں کہ آپ کی خوراک اہم ہے لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کی ڈائٹ کیلئے کیا اچھا ہے کیا نہیں ؟
دانوں کیلئے تھوک بطور علاج ، سائنس کیا کہتی ہے؟
دلچسپ امر یہ ہے کہ تمنا بھا کے اس دعوے کے پیچھے سائنسی حمایت بھی موجود ہے۔
جرنل آف کاسمیٹک ڈرماٹولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انسانی لعاب میں جراثیم کش مرکبات موجود ہوتے ہیں جو مہاسے پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو مارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔




