دنیا

امارات کی خصوصی پروازیں ایران سے بیک چینل ڈپلومیسی کا نتیجہ

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کی فضائی حدود متاثر ہونے سے فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہو گئے ہیں، تاہم ایسے حالات میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے سینکڑوں خصوصی پروازیں چلانے کے معاملے نے توجہ حاصل کر لی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پروازیں دراصل ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان ہونے والی بیک چینل ڈپلومیسی کا نتیجہ ہیں۔

بیک چینل مذاکرات کا انکشاف

غیر ملکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امارات کی فضائی حدود باضابطہ طور پر بند ہونے کے باوجود کچھ پروازیں خصوصی اجازت کے تحت آپریٹ کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ پروازیں معمول کی شیڈول فلائٹس نہیں بلکہ خصوصی پروازیں ہیں جو ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان خفیہ سفارتی رابطوں کے بعد ممکن ہوئیں۔

قطر اور یمن کے ذریعے فضائی راہداری

ذرائع کے مطابق ان پروازوں کیلئے خصوصی فضائی راستے قطر اور یمن کے ذریعے قائم کیے گئے ہیں، جس کے تحت امارات کیلئے ایک محدود اور محفوظ فضائی راہداری فراہم کی گئی۔

ایران کی جانب سے یقین دہانی

رپورٹ کے مطابق امارات نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین کسی تیسرے فریق کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس کے بدلے ایران نے دبئی اور ابوظبی سے روانہ ہونے والی مخصوص کمرشل پروازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

محدود مدت کیلئے اجازت

ابتدائی طور پر یہ انتظام تقریباً 48 گھنٹوں کیلئے کیا گیا ہے، تاہم اگر صورتحال برقرار رہی تو اس میں توسیع بھی ممکن ہے۔

خطے میں فلائٹ بحران

رپورٹ کے مطابق جہاں امارات سے خصوصی پروازیں جاری ہیں، وہیں کویت، بحرین، قطر سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کوئی پرواز روانہ نہیں ہو سکی، جس کے باعث ہزاروں مسافر زمینی راستوں کے ذریعے سعودی عرب پہنچ کر اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔

install suchtv android app on google app store

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button