دنیا

ایران، امریکا اور اسرائیل کشیدگی کے بعد بابا وانگا کی پیشگوئیاں پھر موضوعِ بحث

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد بابا وانگا کی مبینہ پیشگوئیاں سوشل میڈیا پر دوبارہ موضوعِ بحث بن گئیں، تاہم ماہرین نے ان دعوؤں کو غیر سائنسی قرار دیا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں اور اس کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو نہایت کشیدہ بنا دیا ہے۔ اہم شخصیات کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات کے بعد خطے میں وسیع تر تنازع اور عدم استحکام کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

جنگی کارروائیوں کی خبروں کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر بلغاریہ کی نابینا نجومی بابا وانگا کی پرانی پیشگوئیاں دوبارہ زیرِ بحث آ گئیں۔ بابا وانگا، جن کا انتقال 1996 میں ہوا تھا، کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے مستقبل کے عالمی حالات سے متعلق متعدد پیشگوئیاں کی تھیں۔

ان کے ماننے والوں کے مطابق انہوں نے 2026 کے ابتدائی مہینوں میں مشرق سے شروع ہونے والی ایک بڑی جنگ کی پیشگوئی کی تھی۔ سوشل میڈیا صارفین ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی کو اسی مبینہ پیشگوئی سے جوڑ رہے ہیں۔

بعض غیر مصدقہ دعوؤں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس جنگ کے اثرات یورپ سمیت مغربی دنیا پر بھی مرتب ہوں گے، جہاں معاشی اور سماجی بحران جنم لے سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں ایک اور دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی آئے گی اور روس مزید مضبوط حیثیت سے ابھر سکتا ہے۔

تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسی پیشگوئیوں کی کوئی سائنسی یا مستند بنیاد موجود نہیں ہوتی۔ عالمی سیاسی اور عسکری حالات کا تجزیہ معتبر سفارتی بیانات، زمینی حقائق اور مستند ذرائع کی روشنی میں ہی کیا جانا چاہیے۔

موجودہ صورتحال میں بھی حکومتوں اور عالمی اداروں کے سرکاری مؤقف کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پیشگوئیوں کو محض قیاس آرائی قرار دیا جا رہا ہے۔

install suchtv android app on google app store

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button