دنیا

ایران کا امریکی طیارہ بردار جہاز "ابراہم لنکن” پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ عمان میں موجود امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو جدید ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے کے بعد امریکی طیارہ بردار جہاز خلیجِ عمان سے پیچھے ہٹ کر فاصلے پر چلا گیا۔

حملہ کہاں کیا گیا؟

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی طیارہ بردار جہاز کو ایران کی سمندری حدود سے تقریباً 340 کلومیٹر کے فاصلے پر بحیرۂ عمان میں نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ساتھ موجود امریکی جنگی جہاز خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں داخل ہوئے تھے۔

آبنائے ہرمز کی نگرانی کا دعویٰ

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کا مقصد اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی نگرانی اور کنٹرول حاصل کرنا تھا۔

ایران کے مطابق ڈرون حملے کے بعد امریکی بحری جہاز اور اس کے ساتھ موجود دیگر جہاز تیزی سے علاقے سے دور جاتے ہوئے دیکھے گئے۔

دوسری جانب پینٹاگون کی جانب سے اب تک اس حملے، کسی ممکنہ نقصان یا جہاز کے پیچھے ہٹنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

میزائل حملے کا بھی دعویٰ

پاسداران انقلاب سے وابستہ میڈیا چینلز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سے قبل بھی یو ایس ایس ابراہم لنکن کو چار بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں فوجی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

 

install suchtv android app on google app store

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button