بھارت امریکی دفاعی تعاون میں امبانی، ایپسٹین گٹھ جوڑ بے نقاب

بھارت کے دفاعی اور خارجہ تعاون سے متعلق ایک مبینہ نیٹ ورک کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں کاروباری شخصیت انیل امبانی اور سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین کے درمیان روابط کے دعوے کیے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس، خصوصاً نیویارک ٹائمز کے مطابق، اس مبینہ نیٹ ورک نے نریندر مودی کی حکومت کی اسرائیل سے متعلق پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 2017 کے بعد بھارت کی اسرائیل کی جانب اسٹریٹجک جھکاؤ میں اضافہ ہوا، جس میں اربوں ڈالر کے دفاعی اور انٹیلی جنس معاہدے شامل تھے۔
دعووں کے مطابق، جیفری ایپسٹین نے خود کو امریکی پالیسی ساز حلقوں سے قریبی تعلق رکھنے والا ظاہر کرتے ہوئے مختلف سفارتی اور کاروباری شخصیات کو جوڑنے میں کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں اسٹیو بینن، ٹام بیرک اور جیرڈ کشنر جیسے نام بھی سامنے آئے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امبانی گروپ کو بعض دفاعی منصوبوں میں کردار دیا گیا، جبکہ 2016 کے رافیل طیارہ معاہدے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، لیک ہونے والی ای میلز میں مبینہ طور پر خفیہ رابطوں اور غیر رسمی نیٹ ورکس کے ذریعے خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
مالیاتی پہلوؤں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انیل امبانی کی دولت میں نمایاں کمی آئی، جبکہ ایپسٹین نے مبینہ طور پر مالی مشورے بھی فراہم کیے۔ دونوں شخصیات کے درمیان ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا گیا، جن میں 2019 میں نیویارک میں ہونے والی ایک ملاقات شامل ہے۔
تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اور متعلقہ فریقین کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو اس کے عالمی سیاسی اور سفارتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔




