دماغ کو خاموشی سے نقصان پہنچانے والی 7 عام عادات کیا ہیں ، جانیے

ہمارا دماغ جسم کا سب سے پیچیدہ عضو ہے جو سوچنے، یادداشت، جذبات، بینائی، سانس، درجہ حرارت اور بھوک سمیت تقریباً ہر نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ مگر روزمرہ کی چند بظاہر معمولی عادات طویل مدت میں دماغ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
1۔ 6 گھنٹے سے کم نیند لینا
ماہرین کے مطابق ہر رات 7 سے 8 گھنٹے نیند دماغی صحت کے لیے ضروری ہے۔ مسلسل کم نیند لینے سے یادداشت متاثر ہوتی ہے، ردِعمل سست پڑتا ہے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
2۔ طویل وقت بیٹھے رہنا
روزانہ 8 سے 10 گھنٹے مسلسل بیٹھے رہنا دماغی تنزلی کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین اسے ڈیمینشیا جیسے امراض سے جوڑتے ہیں۔ ہر گھنٹے بعد چند منٹ چہل قدمی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔
3۔ رات کو اسکرین کا زیادہ استعمال
سونے سے پہلے موبائل یا لیپ ٹاپ کا استعمال میلاٹونین ہارمون کی سطح کو متاثر کرتا ہے، جس سے نیند کا معیار خراب ہوتا ہے اور دماغ کو مکمل آرام نہیں مل پاتا۔
4۔ ورزش نہ کرنا
جسمانی سرگرمی دماغی لچک (Brain Plasticity) کو بہتر بناتی ہے، جو سیکھنے اور یادداشت کے لیے ضروری ہے۔ باقاعدہ ورزش نہ کرنے سے دماغی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔
5۔ بلڈ پریشر اور شوگر کو نظر انداز کرنا
ہائی بلڈ پریشر اور غیر متوازن بلڈ شوگر دماغ کی باریک شریانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور فالج کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔
6۔ دائمی تناؤ
مسلسل ذہنی دباؤ دماغی حجم میں کمی کا سبب بن سکتا ہے اور توجہ و یادداشت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ ریلیکسیشن، عبادت، سانس کی مشقیں اور مثبت سرگرمیاں مفید رہتی ہیں۔
7۔ خراٹوں کو معمولی سمجھنا
شدید خراٹے سلیپ اپنیا کی علامت ہوسکتے ہیں، جو دماغ کو آکسیجن کی فراہمی متاثر کرتے ہیں اور فالج سمیت دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
دماغی صحت برقرار رکھنے کے لیے متوازن نیند، باقاعدہ ورزش، متحرک طرز زندگی اور ذہنی سکون بے حد ضروری ہیں۔ چھوٹی احتیاطی تبدیلیاں طویل مدت میں بڑا فرق ڈال سکتی ہیں۔




