ذیابیطس کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں؟ ماہرین کی اہم ہدایات

ذیابیطس ایک دائمی مرض ہے جس کے باعث بہت سے افراد رمضان میں روزہ رکھنے سے ہچکچاتے ہیں۔ تاہم ماہرین صحت کے مطابق اگر ٹائپ ٹو ذیابیطس مناسب حد تک کنٹرول میں ہو تو احتیاط اور درست منصوبہ بندی کے ساتھ روزہ رکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنے والے مریض کو اپنی غذا، ادویات اور بلڈ شوگر لیول پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی خطرناک صورتحال سے بچا جا سکے۔
سحری اور افطار میں کیا کھائیں؟
-
گندم اور جو کے آٹے کو ملا کر بنائی گئی روٹی بہتر انتخاب ہے۔
-
پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے انڈے، چکن اور دہی شامل کریں۔
-
تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کریں کیونکہ یہ شوگر لیول میں اتار چڑھاؤ اور پیاس کا باعث بنتی ہیں۔
میٹھے کا متبادل
ماہرین کے مطابق اسٹیویا (میٹھی میتھی) چینی کا بہتر متبادل ہے۔ اس کے خشک پتوں کا پاؤڈر چینی کی جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ بلڈ شوگر کو متاثر کیے بغیر مٹھاس فراہم کرتا ہے۔ افطار کے بعد چائے، کافی یا لیموں پانی میں اس کا استعمال مفید ہو سکتا ہے۔
بلڈ شوگر کب چیک کریں؟
ذیابیطس کے مریضوں کو روزانہ کم از کم تین مرتبہ شوگر لیول چیک کرنا چاہیے:
-
سحری کے وقت
-
افطار سے قبل
-
افطار کے بعد
ماہرین زور دیتے ہیں کہ روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔ اگر شوگر لیول بہت زیادہ کم یا زیادہ ہو جائے تو فوراً روزہ توڑ دینا چاہیے تاکہ جان کو خطرہ نہ ہو۔
درست احتیاط اور ڈاکٹر کی رہنمائی کے ساتھ روزہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ محفوظ بھی بنایا جا سکتا ہے۔




