چین اور روس کی بحیرہ جاپان میں مشترکہ بحری مشقوں کا آغاز
چین اور روس نے عالمی سطح پر امریکہ کی قیادت میں قائم نظام کا توڑ کرنے اور باہمی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بحیرہ جاپان میں تین روزہ مشترکہ بحری مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔
چینی وزارت دفاع کے مطابق، یہ مشقیں روسی بندرگاہ ولادی ووستوک کے قریب سمندری حدود میں جاری ہیں جن کا مقصد دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا اور بین الاقوامی سطح پر طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا ہے۔
مشقوں میں دونوں ممالک کی بحری افواج حصہ لے رہی ہیں، جن میں آبدوزوں کو بچانے کی مشقیں، زیرآب حملوں کی روک تھام، فضائی دفاع، میزائل شکن کارروائیاں اور سمندری جنگی مہارتیں شامل ہیں۔
چین کی جانب سے چار بحری جہاز مشقوں میں شریک ہیں، جن میں گائیڈڈ میزائل سے لیس "شاوکسنگ” اور "ارومچی” بھی شامل ہیں۔ یہ جہاز روسی نیوی کے ہمراہ مربوط آپریشنز انجام دے رہے ہیں۔ مشقوں کے اختتام پر دونوں ممالک بحرالکاہل کے مخصوص حصوں میں مشترکہ گشت بھی کریں گے۔
واضح رہے کہ چین اور روس کے درمیان 2012 سے اب تک دفاعی تعاون پر مبنی کئی مشترکہ مشقیں ہو چکی ہیں۔ گزشتہ برس یہ مشقیں چین کے جنوبی ساحل کے قریب کی گئی تھیں، جبکہ اس سال دونوں ممالک نے خطے میں بدلتے حالات کے تناظر میں اپنی عسکری ہم آہنگی مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔




