کتوں کی آنتوں کے بیکٹیریا کینسر کے علاج کے بعد زندگی کی مدت کا اندازہ لگا سکتے ہیں، نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کتوں کی آنتوں میں موجود بیکٹیریا اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ کینسر کے علاج کے بعد وہ کتنی مدت تک زندہ رہیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں نہ صرف جانوروں بلکہ انسانوں کے کینسر کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکا میں ہر سال تقریباً 60 لاکھ کتے کینسر کا شکار ہوتے ہیں، اور یہ بیماری ان کی موت کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ اسی تناظر میں امریکی ماہرین نے 51 کینسر زدہ کتوں پر تحقیق کی، جنہیں ایک خصوصی امیونو تھراپی ویکسین دی گئی۔
ویکسین کیسے کام کرتی ہے؟
یہ ویکسین کینسر کے خلیوں میں موجود دو مخصوص پروٹینز کو بلاک کرتی ہے، جس سے مدافعتی نظام کو ٹیومر کے خلاف مؤثر طریقے سے لڑنے میں مدد ملتی ہے۔
علاج سے پہلے محققین نے کتوں کے آنتوں کے جراثیم (مائیکرو بایوم) کے نمونے لیے اور علاج کے بعد ان کی بقا کا جائزہ لیا۔ نتائج حیران کن تھے۔
حیران کن نتائج
تحقیق میں 11 اقسام کے بیکٹیریا کی نشاندہی ہوئی جو ویکسین کے اثر کو متاثر کرتے ہیں:
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تعلق کتے کی نسل یا کینسر کی قسم سے قطع نظر برقرار رہا۔
آنتوں کے بیکٹیریا کا کردار
ماہرین کے مطابق آنتوں کے بیکٹیریا مدافعتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ اثر صرف ہاضمے تک محدود نہیں بلکہ پورے جسم میں کینسر کے خلاف مدافعتی ردعمل کو بڑھا یا کم کر سکتا ہے۔
اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ محقق نتالیہ شولژینکو کے مطابق یہ تحقیق اس سمت میں پہلا قدم ہے کہ آنتوں کے بیکٹیریا کو کینسر کی تشخیص اور علاج میں استعمال کیا جا سکے۔
مستقبل میں کیا ممکن ہے؟
محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایک سادہ مائیکرو بایوم ٹیسٹ کے ذریعے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ کتا علاج پر کتنا بہتر ردعمل دے گا۔
اسی طرح:
کے ذریعے آنتوں کے بیکٹیریا کو بہتر بنا کر ویکسین کی تاثیر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
فی الحال یہ تحقیق ابتدائی مرحلے میں ہے، مگر ماہرین پرامید ہیں کہ اس سے نہ صرف پالتو جانوروں بلکہ انسانوں کے کینسر کے علاج میں بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔




