امریکہ کا ری فیولنگ طیارہ تباہ، چار اہلکاروں کی موت کی تصدیق

امریکہ کا ایک ری فیولنگ ہوائی جہاز عراق میں کام کرتے ہوئے گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثہ میں جہاز پر سوار عملے کے 4 ارکان کے مرنے کی تصدیق ہو گئی۔ دو ارکان کو ابھی لاپتہ شمار کیا جا رہا ہے۔ اس حادثہ کے بعد ایران جنگ میں امریکی فوج کا جانی نقصان بڑھ کر 11 ہو گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کوم (CENTCOM) کے مطابق، مغربی عراق میں گرنے والے ری فیولنگ طیارے کے سی 135 ( KC-135) میں سوار عملے کے چھ ارکان میں سے چار کے مرنے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ عملے کے دو دیگر ارکان لاپتہ ہیں۔
سینٹ کوم CENTCOM نے کہا کہ طیارہ کل جمعرات کو دوپہر تقریباً 2 بجے گرا تھا۔ اس حادثہ کی تحقیقات جاری ہیں، لیکن یہ ابھی سے واضح ہے کہ طیارے کا نقصان دشمن کے فائر یا کسی فرینڈلی فائر کی وجہ سے نہیں ہوا۔
سینٹ کوم نے ابھی اس حادثہ میں مرنے والوں کی شناخت جاری نہیں کی۔ یہ کہتے ہوئے کہ ان کے نام 24 گھنٹے تک پوشیدہ رکھے جائیں گے جب تک کہ فوجی حکام اپنے طریقہ کار کے مطابق خود جا کر مرنے والوں کے قریبی رشتہ داروں کو مطلع نہیں کر چکتے۔
سینٹ کوم CENTCOM نے جمعرات کو بتایا تھا کہ اس حادثہ میں دو طیارے ملوث تھے، جن میں سے ایک مغربی عراق میں گر گیا جبکہ دوسرا بحفاظت لینڈ کر گیا۔ فوری طور پر اس بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں کہ دونوں طیارے کیسے شامل تھ، کیا یہ طیارے ری فیولینگ کے عمل کے دوران حادثہ کا شکار ہوئے؟۔
امریکہ کی سی بی ایس نیوز نے عراقی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ طیارہ اردن کے ساتھ عراق کی سرحد کے ساتھ واقع ترابیل کے قریب گرا۔ نیوز آؤٹ لیٹ نے یہ بھی اطلاع دی کہ فلائٹ ٹریکنگ سروس Flightradar24 نے ایک دوسرا KC-135 ٹینکر دکھایا جس کے لئے تل ابیب میں لینڈنگ سے قبل ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا تھا۔
KC-135 ایک فضا میں ایندھن بھرنے والا فوجی طیارہ ہے جو پرواز کی حالت میں ایندھن کی منتقلی کے ذریعے امریکی اور اتحادی جنگی طیاروں کی حد اور برداشت کو بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ امریکی فضائیہ کے بیڑے کا حصہ ہے۔
کم از کم 11 امریکی اہلکار اب تک ایران کے ساتھ جاری تنازعے سے متعلق کارروائیوں میں مارے جا چکے ہیں، جب کہ ایک اور سروس ممبر کی موت صحت سے متعلق ایک واقعے (بیماری)میں ہوئی۔




