فائنل کھیلنے والے ہاکی کھلاڑی نان و نفقہ کو ترس گئے
پاکستان ہاکی ایک بار پھر شدید مالی بحران کی زد میں آ گئی ہے، جس کا براہِ راست اثر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں پر پڑ رہا ہے۔ ملائشیا میں جاری ایف آئی ایچ نیشنز کپ کے فائنل میں شرکت کرنے والی قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی گزشتہ کئی روز سے روزمرہ اخراجات کے لیے پریشانی کا شکار ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ہر کھلاڑی کو روزانہ 30 ہزار روپے کے حساب سے دس دن کا معاوضہ ادا کرنا تھا، تاہم تاحال کسی کھلاڑی کو ایک روپیہ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
نہ صرف کھلاڑی بلکہ کوچنگ اسٹاف اور آفیشلز بھی ڈیلی الاؤنس سے محروم ہیں۔
معاشی مشکلات نے ٹیم کے حوصلے پست کر دیے ہیں، جس کا اثر فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف کارکردگی پر بھی نظر آیا۔
گرین شرٹس کو حریف ٹیم کے ہاتھوں دو کے مقابلے میں چھ گول سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو کھانے پینے اور ذاتی ضروریات کے اخراجات اپنی جیب سے پورے کرنے پڑ رہے ہیں، جس پر وہ سخت اضطراب میں مبتلا ہیں۔
یہ صورتحال نئی نہیں، حالیہ برسوں میں مالی مسائل کی وجہ سے قومی ٹیم کو متعدد بین الاقوامی ایونٹس سے دستبردار ہونا پڑا۔
رواں برس اذلان شاہ کپ میں شرکت نہ کرنے کی بڑی وجہ بھی سابقہ واجبات کی عدم ادائیگی تھی، جو اب بھی حل طلب ہے۔
ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی2024 کے یومیہ 20 ہزار روپے واجبات بھی وقت پر ادا نہیں کیے گئے تھے۔
ہاکی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ جب ملک میں کرکٹ لیگوں پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا سکتے ہیں تو ہمیں ہمارا معمولی سا معاوضہ بھی کیوں وقت پر ادا نہیں کیا جاتا؟
ملائشیا سے نمائندہ ایکسپریس سے بات چیت میں سیکرٹری پاکستان ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد علی نے کہا ہے کہ فیڈریشن کو کھلاڑیوں کے واجبات، ڈیلی الاؤنسز اور دیگر انتظامی امور کی ادائیگی کے لیے فوری طور پر چھ سے سات کروڑ روپے درکار ہیں، بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں ڈیڑھ کروڑ تک اخراجات ہوتے ہیں لیکن اتنے فنڈز بھی فراہم نہیں کیے جاتے۔
سیکرٹری پی ایچ ایف کے مطابق اگر حکومت پاکستان ہاکی کیلیے ہر سالانہ ایک ارب روپے مختص کرے تو ٹیم دوبارہ اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سالانہ تین ارب روپے صرف ہاکی پر خرچ کر رہا ہے جبکہ پاکستان میں قومی کھیل کے لیے بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں، محدود سپانسرز کی مدد سے ٹیم کو ملائشیا بھیجا گیا۔
قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ طاہر زمان نے کہا ہے کہ اگر بھارت کے اخراجات کا چوتھائی بھی پاکستان کو دے دیا جائے تو ہماری ٹیم کی کارکردگی کئی گنا بہتر ہو سکتی ہے۔
سابق اولمپیئن توقیر ڈار نے کھلاڑیوں کی حب الوطنی کو سراہتے ہوئے انہیں ’’مجاہدین‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنی قربانی، محنت اور جذبے سے پاکستان ہاکی کا چراغ روشن رکھا ہوا ہے۔
سیکرٹری پی ایچ ایف نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیرِ کھیل رانا ثناء اللہ اور فیلڈ مارشل د عاصم منیر سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان ہاکی کو درکار مالی و انتظامی مدد فراہم کریں۔




