صحت و سائنس

فوری طور پر کھڑے ہونے سے دل کی دھڑکن تیز ہونا اور سر چکرانا کس بیماری کی علامت ہے؟

کچھ افراد کو بیٹھنے کے بعد اچانک کھڑے ہونے پر چکر آنا اور دل کی دھڑکن تیز ہونے کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ کیفیت ایک عارضے پوسٹورل آرتھوسٹیٹک ٹکی کارڈیا سینڈروم (POTS) کی علامت ہو سکتی ہے۔

اس عارضے میں، جب متاثرہ شخص اپنی جسمانی پوزیشن تبدیل کرتا ہے، تو دل کی دھڑکن غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔

اگرچہ اب تک اس مرض کا کوئی حتمی علاج دستیاب نہیں تھا، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کا ممکنہ علاج دریافت کرلیا ہے۔

ہارٹ فیلیئر کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا ivabradine کے استعمال سے پی او ٹی ایس کے مریضوں کو ریلیف مل سکتا ہے۔

جرنل آف Cardiovascular Pharmacology میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ اس دوا کے استعمال سے مریضوں کے دل کی دھڑکن تیز نہیں ہوتی۔

جبکہ دیگر علامات بھی بہتر ہوتی ہے جبکہ مجموعی بلڈ پریشر پر اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

محققین نے بتایا کہ دل کی دھڑکن کی رفتار میں تیزی کے باعث مریضوں کا سر چکراتا ہے یا وہ خود کو بیمار محسوس کرتے ہیں۔

عام طور پر پی او ٹی ایس کا سامنا ایک فیصد سے بھی کم افراد کو ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں پی او ٹی ایس کے 10 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن کی اوسط عمر 28 سال تھی۔

ان افراد کو اس دوا کا استعمال کرایا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ دوا استعمال کرنے والے مریضوں کی دل کی دھڑکن اس وقت کنٹرول میں رہی جب وہ بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوئے۔

اس دوا سے سر چکرانے کے احساس میں 69 فیصد جبکہ سینے میں تکلیف میں 66 فیصد کمی آئی۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھنے سے پی او ٹی ایس کی دیگر علامات متحرک ہوتی ہیں۔

install suchtv android app on google app store

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button