صحت و سائنس

قے ہوجانے سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

سوال: قے ہوجانے سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

جواب: قے کی صورت میں روزے کا حکم اس بات پر موقوف ہے کہ قے بلااختیار ہوئی یا جان بوجھ کر کی گئی، اور وہ منہ بھر تھی یا نہیں۔

1) بلااختیار قے

اگر خود بخود قے ہوجائے (چاہے منہ بھر ہو یا کم) اور وہ حلق میں واپس نہ لوٹے تو روزہ نہیں ٹوٹتا اور قضا بھی لازم نہیں۔

اس کی تصریح فقہ حنفی کی کتب میں موجود ہے، جیسا کہ تنویر الابصار مع الدرالمختار میں مذکور ہے کہ بلااختیار قے سے مطلقاً روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

2) جان بوجھ کر (قصداً) قے

اگر روزہ یاد ہوتے ہوئے جان بوجھ کر قے کی اور وہ منہ بھر ہو تو بالاتفاق روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا لازم ہوگی۔

اگر منہ بھر سے کم ہو تو صحیح مذہب کے مطابق روزہ نہیں ٹوٹتا۔

یہ تفصیل بھی تنویر الابصار مع الدرالمختار میں مذکور ہے۔

3) بلغم کی قے

اگر قے میں صرف بلغم ہو (کھانا، صفرا یا خون نہ ہو) تو روزہ نہیں ٹوٹتا، جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں بیان ہے۔

4) حدیثِ نبوی ﷺ

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“جس نے بے اختیار قے کی اس پر قضا نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی اس پر قضا ہے۔”
(سنن ترمذی، حدیث: 720)

خلاصہ:

بے اختیار قے ⇒ روزہ برقرار

جان بوجھ کر منہ بھر قے ⇒ روزہ ٹوٹ جائے گا (قضا لازم)

صرف بلغم ⇒ روزہ نہیں ٹوٹتا

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

install suchtv android app on google app store

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button