پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کی تیاری، اہم حکمت عملی تیار کر لی

پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ واپسی کے لیے ایک جامع اور مستقبل پر مبنی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد بیرونی سرمایہ کاری کے ذرائع کو متنوع بنانا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مستحکم کرنا ہے۔
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اسپرنگ اجلاس 2026 کے موقع پر اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران انہوں نے پاکستان کی بہتر ہوتی میکرو اکنامک صورتحال اور جاری اصلاحات پر روشنی ڈالی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان عالمی سرمایہ مارکیٹس میں واپسی کی تیاری کر رہا ہے، جس کے لیے مختلف مالیاتی ذرائع استعمال کیے جائیں گے، جن میں ملک کا پہلا پانڈا بانڈ اور ممکنہ یورو بانڈز شامل ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ یورو بانڈز اور دیگر کمرشل فنانسنگ کے آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ مالیاتی ذرائع کو متنوع بنایا جا سکے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ 4 سال کے وقفے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی پاکستان کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد بیرونی فنانسنگ کے ذرائع کو مضبوط بنانا اور سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط کو فروغ دینا ہے۔
روتھ شیلڈ اینڈ کمپنی کے ساتھ ایک علیحدہ ملاقات میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان یورو بانڈز، پانڈا بانڈ اور ڈالر میں طے شدہ روپے سے منسلک مالیاتی لین دین کے ذریعے کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانڈا بانڈ کے اجرا کا عمل آخری مراحل میں ہے اور جلد ریگولیٹری منظوری متوقع ہے، وزیر خزانہ نے قرضوں کے بہتر انتظام سے متعلق مشاورتی آراء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کی ییلڈ کَرو کو کم کرنے اور مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
آئی ایم ایف کے نمائندے نائجل کلارک کے ساتھ ملاقات میں وزیر خزانہ نے پروگرام پر عملدرآمد اور بیرونی مالیاتی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ اہم معاشی اشاریے مجموعی طور پر درست سمت میں گامزن ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ توقعات سے بہتر رہا ہے، جس میں خصوصاً رمضان کے دوران ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو سعودی عرب کی مالی معاونت، بشمول ڈپازٹس کے رول اوور، کے ذریعے مضبوط بنایا جا رہا ہے۔




