ایران کا تمام جہازوں کیلئے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے کم ہونے لگیں

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھول رہے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعلان اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تمام کمرشل بحری جہاز ایران کی جانب سے مقرر کردہ مربوط (کوآرڈی نیٹڈ) روٹ کے ذریعے گزر سکیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا کہ یہ روٹس پہلے ہی ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کیے جا چکے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا اختتام 22 اپریل کو ہوگا۔ اب دیکھنا ہے کہ اس تاریخ کے بعد ایران دوبارہ آبنائے ہرمز بند کردیتا ہے یا اس سے قبل کوئی حتمی معاہدہ طے پاجاتا ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران نے یہ انتہائی اہم قدم کن شرائط کی بنیاد پر اُٹھایا ہے اور اس کے لیے کیا معاملات طے پائے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای عسکری قیادت سمیت شہید ہوگئے تھے۔
ان حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کردی تھی جو دنیا کو تیل و گیس کی ترسیل کی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا میں تیل و گیس کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں جس کے اثرات مہنگائی اور معیشت کی تباہی کی صورت میں سامنے آئے۔
ایسے میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہوگئے جس میں امریکا نے مزید حملے نہ کرنے اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔
جس کے بعد پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ اس وقت بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں اور ان سفارتی کاری کی کوششیں بآور ثابت ہورہی ہیں۔




