انسان کے پانچ نہیں بلکہ 33 حواس؟ جدید سائنس نے نئی جہتیں کھول دیں

جدید سائنسی تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ انسانی ادراک محض پانچ بنیادی حواس تک محدود نہیں۔ ماہرین کے مطابق انسان میں حسی صلاحیتوں کی تعداد 22 سے 33 تک ہو سکتی ہے، جو ہمارے ماحول کو سمجھنے اور اس کے ساتھ تعامل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ماہرینِ اعصابیات کے مطابق دماغ مختلف حسی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کر کے ایک مربوط تجربہ تشکیل دیتا ہے۔ برطانیہ کی جامعات سے وابستہ تحقیقی مراکز میں ہونے والی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تجربہ کثیرالجہتی ہے اور صرف دیکھنے، سننے یا چکھنے تک محدود نہیں۔
اضافی حواس کیا ہیں؟
ماہرین کے مطابق پانچ روایتی حواس کے علاوہ کئی دیگر حسی نظام بھی فعال ہوتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
پروپریوسپشن: بغیر دیکھے جسم کے اعضا کی پوزیشن کا علم
ویسٹیبیولر حس: توازن برقرار رکھنے میں مدد، اندرونی کان سے وابستہ
انٹیروسیپشن: دل کی دھڑکن، بھوک یا جسمانی اندرونی کیفیت کا احساس
سینس آف اونرشپ: اپنے اعضا کو اپنا سمجھنے کا شعور
سینس آف ایجنسی: حرکت پر اختیار کا احساس
یہ تمام حسی نظام مل کر انسانی تجربے کو مکمل بناتے ہیں۔
ذائقہ صرف زبان تک محدود نہیں
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زبان پر موجود ریسیپٹرز صرف پانچ بنیادی ذائقے (میٹھا، نمکین، کھٹا، کڑوا اور امامی/چٹخارا) محسوس کرتے ہیں۔
لیکن اسٹرابیری، آم یا رسبری جیسے پیچیدہ ذائقے دراصل سونگھنے اور چھونے کی حس کے اشتراک سے بنتے ہیں۔
جب ہم کھانا چباتے ہیں تو خوشبو کے مرکبات منہ سے ناک کے پچھلے حصے تک پہنچتے ہیں، جس سے مکمل ذائقہ تشکیل پاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ذائقے کا بڑا حصہ دراصل سونگھنے کی حس سے وابستہ ہے۔
بصارت اور توازن کا تعلق
تحقیقات سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ بصارت تنہا کام نہیں کرتی بلکہ توازن کے نظام سے جڑی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ہوائی جہاز کے اڑان بھرنے پر مسافر کو کیبن کا اگلا حصہ اونچا محسوس ہوتا ہے، حالانکہ دیکھنے کا زاویہ تبدیل نہیں ہوتا۔ یہ احساس اندرونی کان کے توازن کے نظام کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
کیا واقعی 33 حواس ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی حواس کی کوئی حتمی تعداد طے نہیں۔ مختلف محققین ’حس‘ کی تعریف مختلف انداز میں کرتے ہیں، جس کی وجہ سے تعداد 10 سے لے کر 30 یا اس سے زائد بھی بیان کی جاتی ہے۔
اس لیے 33 حواس کا ذکر کسی قطعی عدد کے طور پر نہیں بلکہ انسانی حسی نظام کی پیچیدگی کو سمجھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
تحقیق کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اصل مقصد حواس کی گنتی نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ انسانی ادراک ایک مربوط، کثیرالجہتی اور پیچیدہ نظام ہے، جو ہمیں اپنے ماحول کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔




